Thursday, 18 January 2024

💕 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:💕

 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

انسان کے ہر ایک جوڑ پر صدقہ لازم ہوتا ہے ہر دن جس میں سورج طلوع ہوتا ہے پھر اگر وہ انسانوں کے درمیان انصاف کرے تو یہ بھی ایک صدقہ ہے اور کسی کو سواری کے معاملے میں اگر مدد پہنچائے اس طرح پر کہ اسے اس پر سوار کرائے یا اس کا سامان اٹھا کر رکھ دے تو یہ بھی ایک صدقہ ہے اور اچھی بات منہ سے نکالنا بھی ایک صدقہ ہے اور ہر قدم جو نماز کے لیے اٹھتا ہے وہ بھی صدقہ ہے اور اگر کوئی راستے سے کسی تکلیف دینے والی چیز کو ہٹا دے تو وہ بھی ایک صدقہ ہے۔

(صحيح البخاري: 2989)

😭*موجودہ دور کی سبق آموز تحریر*😭

 *موجودہ دور کی سبق آموز تحریر*

*ہوٹل کے کمرے میں محبت کا حق ادا کرنے کے بعد لڑکا اور لڑکی برہنہ حالت میں لیٹے محبت کی باتیں کررہے تھے.... لڑکا جانوں یہ لمحے بہت قیمتی ہیں چلو ایک وڈیو بناکر ان کو یادگار کے لئے قید کرلیتے ہیں.... لڑکی نہیں جان ایسے مت کرو تم وڈیو لیک کردو گے لڑکا تمہیں مجھ پر شک ہے؟ جان تمہیں میری قسم ایک وڈیو بنانے دو تمہارے سر کی قسم ڈلیٹ کردوں گا...لڑکی جان تم سر کی قسم مت دیا کرو, چلو بنالو.*

*عزت ہوٹل کے کمرے میں نیلام کرکے وہ محبوب کی یادوں میں اُڑتی گھر آکر سوگئی... یادرہے وہ گھر سے سہیلی سے ملنے کا بہانہ لگاکر گئی تھی... صبح جب وہ اُٹھی تو اُسکی وہ برہنہ وڈیو انٹرنیٹ پر وائرل ہوچکی تھی...بھائیوں نے اُسی وقت مارکر دفن کردیا....لوگوں کو بتایا اُسے سر درد ہوا اور وہ مرگئی...ایسی لڑکیوں کو بغیر جنازے کے راتوں رات لاوارثوں کی طرح دفنا دیا جاتا ہے....یہ کوئی کہانی نہیں ہے ایک سچ ہے جو ناجانے کتنی لڑکیوں کے ساتھ ہوچکا ہے.....!!!*

*اے بنتِ حوا گاڑیوں میں گھومنا مہنگے تحفے لینا آئی فون لینا...ہوٹلوں میں محبوب کے ساتھ کھانے کھانا تمہیں یہ دنیا بہت اچھی لگتی ہوگی....پر یاد رہے یہ ایک بھیانک دنیا ہے. اس کا انجام ذلت اس کے بعد قتل اور بغیر جنازے کے تدفین ہے...* 

*بنتِ حوا آپ کے بابا نے زمانے کی خاک چھان کر آپ کو جوان کیا ہے... آپ کو تعلیم دلوائی کسی قابل بنایا اُس باپ کی عزت کا کچرہ محبت کی آڑ میں مت کرو...اس دنیا میں سب مل جاتا ہے پر گئی عزت دوبارہ نہیں ملتی.....*

*سنبھل جاؤ اس سے پہلے کہ لاوارث موت تمہارا مقدر بنے.*

انتہائی ادب سے گزارش ہے 😴🙏

 انتہائی ادب سے گزارش ہے  

 جتنا پردہ عورت پر فرض ہے اتنا پردہ مرد پر  بھی فرض ہے کچھ مرد حضرات جان بوجھ کر  راستوں میں پیشاب کرنا فرض اولین سمجھتے ہیں اس کے بعد ناڑا پکڑ کر ہاتھ اندر ڈال کر راستوں میں اِدھر ُادھر گھومتے پھرتے ہیں  اور یہ گھناؤنا عملِ گناہ کھلے عام شاہراٶں  اور مصروف راستوں پر ہم لوگ بڑے فخر سے کرتے ہیں

 

بغیر کسی عذر کے مجبوری کے  راستوں میں بیٹھ کر پیشاب کرنا اسلام اور انسانیت کی خلاف ہے  


اپنی حاجت پوری کرنے کےلیۓ کسی محفوظ اور پردے والے جگہ بیٹھ کر پیشاب کریں اور وہیں پر ضروری صفائی کریں یہ عمل راہ گزرتی خواتین کے لیۓ انتہائی تکلیف دہ عمل ہے 

  

اللہ تعالٰی نے ہم لوگوں کو اشرف المخلوقات پیدا کیا ہے کام بھی اشرف المخلوقات والے کرنے چاہٸیں

کوئی ناراض نہ ہو پوسٹ کو اصلاحی پوسٹ سمجھ کر پڑھیں ماٸیں بہنیں سب کے گھروں میں ہیں جہالت سے نکلیں

Tuesday, 16 January 2024

*.استاد محترم کو میرا سلام کہنا*


*.استاد محترم کو میرا سلام کہنا* 

ایوب خان ملکۂ برطانیہ اور ان کے شوہر کو پاکستان دورے کے دوران برن ہال سکول ایبٹ آباد لے گئے، ملکہ تو ایوب خان کے ساتھ بچّوں سے ہاتھ ملاتی آگے بڑھ گیئں، اُن کے شوہر بچّوں سے باتیں کرنے لگے، پُوچھا کہ بڑے ہو کے کیا بننا ہے، بچّوں نے کہا ڈاکٹر، انجنیئر، آرمی آفیسر،  پائلٹ، وغیرہ وغیرہ۔ وہ کچھ خاموش ہو گئے.

پھر لنچ پر  ایوب خان سے کہا کہ آپ کو اپنے ملک کے مستقبل کا کچھ سوچنا چاہیے۔ میں نے بیس بچّوں سے بات کی۔ کسی نے یہ نہیں کہا کہ اسے ٹیچر بننا ہے اور یہ بہت خطرناک ہے...   

ایوب خان صرف مسکرا دیے. کچھ جواب نہ دے سکے اور یہ ہمارے لیے لمحۂ فکریہ ہے۔

 انگریز حکومت نے حضرت علامہ اقبالؒ ؒکو سر کا خطاب دینے کا ارادہ کیا تو حضرت علامہ اقبالؒ کو وقت کے گورنر نے اپنے دفتر آنے کی دعوت دی.

حضرت علامہ اقبالؒ نے یہ خطاب لینے سے انکار کر دیا۔ جس پر گورنر بے حد حیران ہؤا۔ وجہ دریافت کی تو حضرت علامہ اقبالؒ نے فرمایا: ’’میں صرف ایک صورت میں یہ خطاب وصول کر سکتا ہوں کہ پہلے میرے استاد مولوی میر حسنؒ کو ’’شمس العلماء‘‘ کا خطاب دیا جائے‘‘۔

یہ سن کر انگریز گورنر نے کہا:

”ڈاکٹر صاحب! آپ کو تو ’’سر‘‘ کا خطاب اس لیے دیا جا رہا ہے کہ آپ بہت بڑے شاعر ہیں۔ آپ نے کتابیں تخلیق کی ہیں، بڑے بڑے مقالات تخلیق کیے ہیں۔ بڑے بڑے نظریات تخلیق کیے ہیں۔ لیکن آپ کے استاد مولوی میر حسنؒ صاحب نے کیا تخلیق کیا ہے‘‘

یہ سن کر حضرت علامہ اقبالؒ نے جواب دیا کہ: ’’مولوی میر حسنؒ نے اقبالؒ تخلیق کیا ہے.‘‘

یہ سن کر انگریز گورنر نے حضرت علامہ اقبالؒ کی بات مان لی اور اْن کے کہنے پر مولوی میر حسن ؒ کو ’’شمس العلماء‘‘ کا خطاب دینے کا فیصلہ کر لیا۔ اس پر مستزاد علامہ صاحب نے مزید کہا کہ: ’’میرے استاد مولوی میر حسنؒ کو ’’شمس العلماء‘‘ کا خطاب دینے کے لیے یہاں سرکاری دفاتر میں نہ بلایا جائے بلکہ اْن کو یہ خطاب دینے کے لیے سرکاری تقریب کو سیالکوٹ میں منعقد کیا جائے، یعنی میرے استاد کے گھر.‘‘

اور پھر ایسا ہی کیا گیا۔ مولوی میر حسنؒ کو آج کوئی بھی نہ جانتا اگر وہ حضرت علامہ اقبالؒ کے استاد نہ ہوتے۔ لیکن آج وہ شمس العلماء مولوی میر حسنؒ ؒکے نام سے جانے جاتے ہیں۔

استاد کا مقام اور عظمت ہر شے سے بُلند ہے۔ 

 ان اساتذہ کے نام۔ 

جنہوں نے مجھے انسان بنایا۔

*کیا آج آپنے درودِ پاک پڑھا؟*

*صلی اللہ علیہ والہ وسلم*

*نوٹ* اس پیغام کو دوسروں تک پہنچائیے تاکہ اللہ کسی کی زندگی کو آپ کے ذریعے بدل دے 

🩵 *ٹیپو سلطان شہیدؒ نے اپنے اکثر خوابوں کا ریکارڈ رکھا*


🩵 *ٹیپو سلطان شہیدؒ نے اپنے اکثر خوابوں کا ریکارڈ رکھا*

 اور اس کیلئے باقاعدہ ایک رجسٹر بنایا ۔ اسے جب بھی کوئی خواب آتا اور وہ اس خواب کی صداقت پر یقین رکھتا تو صبح اٹھ کر پہلا کام یہ کرتا کہ اس خواب کوایک رجسٹر میں درج کرتا اور اس کے ساتھ ہی اس کی تعبیر بھی لکھ دیتا ۔ 

           ہر انسان اپنے خوابوں کو چھپاتا ہے ۔ یہ شاید اس کی فطرت میں داخل ہے یا یہ کوئی جبلی جذبہ ہے ۔ بہرحال سلطان نے ان خوابوں کا ذکر اپنے عزیز ترین دوستوں سے بھی کبھی نہ کیا اور رجسٹر تو وہ اپنے بستر میں چھپا کر سوتا تھا ۔

تاریخی شہادت : لندن کی انڈیا آفس لائبریری میں ایک عجیب وغریب مسودہ محفوظ ہے ۔ اس مسودے میں سلطان ٹیپو کے اپنے ہاتھ سے لکھے ہوئے وہ خواب درج ہیں جن کا عرصہ تقریبا پندرہ سال بنتا ہے ۔ مئی 1799 ء میں جب سرنگا پٹم میں سلطان ٹیپو کو شکست ہوگئی اور وہ شہید ہوگیا تو اس کے محل کی تلاشی لی گئی ۔ اس تلاشی کے دوران اس کی خوابگاہ سے ایک رجسٹر برآمد ہوا ۔ جس پر سلطان کے اپنے ہاتھ کے لکھے ہوئے خواب درج ہیں ۔ ایک شخص حبیب اللہ سلطان کا خاص منشی تھا ۔ اس سے سلطان کی کوئی تحریر پوشیدہ نہ تھی لیکن جب یہ رجسٹر تلاشی لینے والی ٹیم کے سربراہ کرنل پیٹرک کے ہاتھ لگا اور اس نے حبیب اللہ کو دکھایا تو اس نے اس بات کی تصدیق کر دی کہ یہ تحریر واقعی سلطان کی ہے ۔

ایک خواب میں جو سُلطان ٹیپو نے اس وقت دیکھا جب ١۷٨٦ء میں بیک وقت انہیں مرہٹوں اور نظام دکن سے مقابلہ درپیش تھا۔روزِ محشر کا نقشہ نظر کے سامنے ہے۔چاروں طرف نفسانفسی کا عالم ہے۔اسی عالمِ اِضطراب و التہاب میں یکایک ایک نہایت خوبصورت ، وجیہہ اور روشن آنکھوں والے بُزُرگ سُلطان کا ہاتھ تھام لیتے ہیں اور پوچھتے ہیں:

" جانتے ہو میں کون ہوں؟"

سُلطان لاعِلمی کا اِظہار کرتے ہیں تو وہ بُزُرگ فرماتے ہیں:

" میں علی ( کرم ﷲ وجہہ ) ہوں۔ جوہرِ آئینۂ تجلیاتﷺ نے فرمایا ہیکہ میں تمہارے بغیر جنّت میں قدم نہیں رکھوں گا۔میں تمہارا اِنتظار کروں گا اور تمہیں ساتھ لے کر جنّت میں جاؤں گا۔"

خواب بیان کر کے سُلطان نے لِکھا کہ:

" جب میں جاگا تو خوشی سے میرا تمام جِسم کانپ رہا تھا۔ﷲ تعالیٰ قادرِ مُطلق ہے اور رسول ﷲ صلی علیہ وآلہ وسلم شافع روزِ جزا ہیں۔"

(چند یادیں چند تاثرات، صفحہ: ٣٦۴ )

سِیرتُ النّبی بعد از وصال النّبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم،حِصّہ چہارم، صفحہ: ٣١۷ )

*نوٹ* اس پیغام کو دوسروں تک پہنچائیے تاکہ اللہ کسی کی زندگی کو آپ کے ذریعے بدل دے 

👈 *ﺧــﻮﺵ ﻧـﺼـﯿـﺐ ﭼــﺮﻭﺍھــﺎ* 👉


➖▪️➖🌹🌹➖▪️➖

👈 *ﺧــﻮﺵ ﻧـﺼـﯿـﺐ ﭼــﺮﻭﺍھــﺎ* 👉

ﺍﺑﻮ ﻣﺤﺬﻭﺭﮦ ﺍﺑﮭﯽ ﻧﻮ ﻋﻤﺮ ﺗﮭﺎ، ﻣﺴﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﮭﯿﮕﯽ ﺗﮭﯿﮟ۔

 ﺍﺱ ﮐﯽ ﺁﻭﺍﺯ ﺑﮩﺖ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺕ ﺗﮭﯽ۔
 ﻭﮦ ﻣﮑﮧ ﮐﺎ ﺑﺎﺳﯽ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﻣﮑﮧ ﻓﺘﺢ ﮨﻮ ﭼﮑﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﻣﮕﺮ ﺍﺑﮭﯽ ﻭﮦ ﺍﺳﻼﻡ ﮐﯽ ﻧﻌﻤﺖ ﺳﮯﻣﺤﺮﻭﻡ ﺗﮭﺎ۔

 ﻣﮑﮧ ﮐﮯ ﺩﯾﮕﺮ ﻧﻮ ﺟﻮﺍﻧﻮﮞ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﻭﮦ ﺑﮭﯽ ﺑﮑﺮﯾﺎﮞ ﭼﺮﺍﯾﺎ ﮐﺮﺗﺎ۔ ﺍﯾﮏ ﺩﻥ ﺍﭘﻨﮯ ﺩﻭﺳﺘﻮﮞ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺑﮑﺮﯾﺎﮞ ﭼﺮﺍﺗﺎ ﮨﻮﺍ
 ﺍﯾﮏ ﻭﺍﺩﯼ ﺳﮯ ﮔﺰﺭ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ۔
 ﺍﺩﮬﺮ ﷲ ﮐﮯ ﺭﺳﻮﻝ ﷺ ﺑﮭﯽ ﮐﺴﯽ ﺟﻨﮓ ﻣﯿﮟ ﺷﺮﮐﺖ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﻭﮨﺎﮞ ﺳﮯ ﮔﺰﺭ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ۔ 

ﺍﯾﮏ ﻭﺍﺩﯼ ﻣﯿﮟ ﭘﮍﺍﺅ ﮈﺍﻻ ﮔﯿﺎ۔ ﻇﮩﺮ ﮐﯽ ﻧﻤﺎﺯ ﮐﺎ ﻭﻗﺖ ﮨﻮﺍ ﭼﺎﮨﺘﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﺣﻀﺮﺕِ ﺑﻼﻝ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﮐﮭﮍﮮ ﮨﻮﺋﮯ ﺍﻭﺭ ﺑﻠﻨﺪ ﺁﻭﺍﺯ ﻣﯿﮟ ﺍﺫﺍﻥ ﺩﯾﻨﺎ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﯽ۔ ﺣﻀﺮﺕِ ﺑﻼﻝ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﮐﯽ ﺑﻠﻨﺪ ﺁﻭﺍﺯ ﺩﻭﺳﺮﯼ ﻭﺍﺩﯼ ﻣﯿﮟ ﺑﮑﺮﯾﺎﮞ ﭼﺮﺍﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺍﺑﻮ ﻣﺨﺬﻭﺭﮦ ﻧﮯ ﺳﻦ ﻟﯽ۔ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺩﻝ ﻟﮕﯽ ﮐﮯ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻧﻘﻞ ﺍُﺗﺎﺭﻧﺎ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮﺩﯼ۔ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﺳﺎﺗﮭﯽ ﺧﺎﻣﻮﺵ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺁﻭﺍﺯ ﺳﻦ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ۔ ﺑﻼﻝ ﺍﺫﺍﻥ ﺩﯾﺘﮯ ﺭﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺑﻮ ﻣﺨﺬﻭﺭﮦ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻧﻘﻞ ﺍُﺗﺎﺭﺗﮯ ﺭﮨﮯ۔ ﺍﻧﺪﺍﺯ ﻣﯿﮟ ﺗﻤﺴﺨﺮ ﺗﮭﺎ ﻣﮕﺮ ﺁﻭﺍﺯ ﻏﻀﺐ ﮐﯽ ﺗﮭﯽ۔ ﭘﮭﺮ ﺍﺑﻮ ﻣﺨﺬﻭﺭﮦ ﮐﯽ ﻗﺴﻤﺖ ﺟﺎﮒ ﺍُﭨﮭﯽ، ﺍﺱ ﮐﯽ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺕ ﺁﻭﺍﺯ ﮐﻮ ﺳﺮﻭﺭِ ﮐﺎﺋﻨﺎﺕ ﻧﮯ ﺳﻤﺎﻋﺖ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ، ﺁﻭﺍﺯ ﺍﭼﮭﯽ ﻟﮕﯽ۔ ﺍﺫﺍﻥ ﺧﺘﻢ ﮨﻮﺋﯽ ﺗﻮ ﺣﻀﺮﺕِ ﻋﻠﯽ ﺍﻭﺭ ﺣﻀﺮﺕِ ﺯﺑﯿﺮ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮩﻢ ﮐﻮ ﺣﮑﻢ ﺩﯾﺎ ﺍﺱ ﺍﺫﺍﻥ ﺩﯾﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﮐﻮ ﻟﮯ ﺁﺋﯿﮟ۔ ﻭﮦ ﭘﮩﺎﮌ ﮐﮯ ﭘﯿﭽﮭﮯ ﮔﺌﮯ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﮐﻮ ﭘﮑﮍﺍ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﮧ ﷺ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﻟﮯ ﮐﺮ ﺁﺋﮯ۔ ﺁﭖ ﷺ ﻧﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ *" ﺗﻢ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺍﺑﮭﯽ ﺍﺑﮭﯽ ﮐﺲ ﻧﮯ ﺍﺫﺍﻥ ﺩﯼ "۔* ﺍﺏ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺣﺠﺎﻟﺖ ﻣﺤﺴﻮﺱ ﮨﻮﺋﯽ۔ﺍﯾﮏ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺩﯾﮑﮭﻨﮯ ﻟﮕﮯ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺗﻮ ﺗﻤﺴﺨﺮﺍﻧﮧ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﺍﺫﺍﻥ ﺩﮮ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ۔
ﺁﭖﷺ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﮐﻮ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ 
*" ﺗﻢ ﺍﺫﺍﻥ ﺩﻭ " ۔*
ﺍﺱ ﻧﮯ ﺍﺫﺍﻥ ﮐﮩﻨﺎ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﯽ ﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺁﻭﺍﺯ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺕ ﻧﮧ ﺗﮭﯽ۔ ﺍﺏ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﮐﻮ ﺍﺷﺎﺭﮦ ﮨﻮﺍ۔ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺑﮭﯽ ﺁﻭﺍﺯ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺕ ﻧﮧ ﺗﮭﯽ۔ ﺍﺏ ﺍﺑﻮ ﻣﺨﺬﻭﺭﮦ ﮐﻮ ﺍﺷﺎﺭﮦ ﮨﻮﺍ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺁﻭﺍﺯ ﺩﻟﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺍُﺗﺮﻧﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﺗﮭﯽ۔
ﺍﺭﺷﺎﺩ ﮨﻮﺍ :: *" ﺗﻢ ﻧﮯ ﺍﺑﮭﯽ ﺍﺑﮭﯽ ﺍﺫﺍﻥ ﺩﯼ ﮨﮯ "۔* ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﺎ : ﮨﺎﮞ۔
ﺍﺏ ﺁﭖ ﷺ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﻣﺒﺎﺭﮎ ﮨﺎﺗﮫ ﮐﻮ ﺁﮔﮯ ﺑﮍﮬﺎﯾﺎِ ﺍﺑﻮ ﻣﺨﺬﻭﺭﮦ ﮐﺎ ﻋﻤﺎﻣﮧ ﺍُﺗﺎﺭﮦ، ﺍﺱ ﮐﮯ ﺳﺮ ﭘﺮ ﺩﺳﺖِ ﺷﻔﻘﺖ ﭘﮭﯿﺮﺍ ﺍﻭﺭ ﺩﻋﺎ ﻓﺮﻣﺎﺋﯽ:۔۔ 
*" ﺍﮮ ﺍﻟﻠﮧ ﺍﺱ ﺑﭽﮧ ﻣﯿﮟ ﺑﺮﮐﺖ ﺩﮮ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﮯ ﺍﺳﻼﻡ ﮐﯽ ﮨﺪﺍﯾﺖ ﻓﺮﻣﺎ " ۔*
ﺍﺑﻮ ﻣﺨﺬﻭﺭﮦ ﮐﯽ ﮐﯿﻔﯿﺖ ﮐﯿﺎ ﮨﻮﮔﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮯ ﺭﺳﻮﻝﷺ ﮐﺎ ﻟﻤﺲ، ﻭﮦ ﻣﺒﺎﺭﮎ ﮨﺎﺗﮫ ﻟﻤﺲ ﮐﯽ ﻟﺬﺕ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻗﺴﻤﺖ ﺟﺎﮒ ﺍُﭨﮭﯽ، ﺍﺱ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ : ۔
*اشھد اللہ الہ الا اللہ واشھد ان محمد رسول اللہ*
ﺍﺏ ﺁﭖ ﷺ ﻧﮯ ﺍﺑﻮ ﻣﺨﺬﻭﺭﮦ ﮐﻮ ﻣﺰﯾﺪ ﺑﺸﺎﺭﺕ ﺩﯼ ﺍﻭﺭ ﻭﻇﯿﻔﮧ ﻣﻘﺮﺭ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎَ 
*"ﺟﺎﺅ ﺗﻢ ﻣﮑﮧ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﮐﮯ ﻣﺆﺫﻥ ﻣﻘﺮﺭ ﮐﯿﮯ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﻮ۔ ﺍﺏ ﺗﻢ ﺍﮨﻞِ ﻣﮑﮧ ﮐﮯ ﻣﺆﺫﻥ ﮨﻮ "۔*
ﺍﺑﻮ ﻣﺨﺬﻭﺭﮦ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﻧﮯ ﺳﺎﺭﯼ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺑﺎﻝ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﭩﻮﺍﺋﮯ ﮐﮧ ﺟﻦ ﺑﺎﻟﻮﮞ ﭘﺮ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮯ ﻧﺒﯽ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧﻭﺳﻠﻢ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﺎ ﺩﺳﺖ ﻣﺒﺎﺭﮎ ﭘﻬﯿﺮ ﺩﯾﺎ ﻭﮦ ﮐﯿﺴﮯ ﮐﭩﻮﺍ ﺩﻭﮞ ﻣﮑﮧ ﺍﻟﻤﮑﺮﻣﮧ ﻣﯿﮟ ﮐﻢ ﻭ ﭘﯿﺶ 300 ﺳﺎﻝ ﺗﮏ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺍﻭﻻﺩ ﺑﻄﻮﺭ ﻣﺆﺫﻥ ﺍﺫﺍﻥ ﺩﯾﺘﯽ ﺭﮨﯽ۔
(صحابہ کرام کے واقعات)
*نوٹ* اس پیغام کو دوسروں تک پہنچائیے تاکہ اللہ کسی کی زندگی کو آپ کے ذریعے بدل دے 

*کبوتروں کی گُنبدِ خضریٰ سے محبت کا عالم :*


 *کبوتروں کی گُنبدِ خضریٰ سے محبت کا عالم :* 


۔"" "" "" "" "" "" "" "" "" "" "" "" "" "" "" ""

ایک مرتبہ اِنتظامیہ نے مسجدِ نبوی شریف ﷺ کے حرم کو صاف سُتھرا رکھنے کے لئے فیصلہ کیا کہ حرم شریف میں کبوتروں کے لئے دانہ نہ ڈالا جائے ، اس طرح کبوتر دانے کی تلاش کے لئے دوسری جگہوں پر منتقل ہو جائیں گے ۔ اس حُکم پر عمل کیا گیا اور کئی دن تک دانہ نہ ڈالا گیا ۔ مگر کبوتروں کی گُنبدِ خضریٰ سے محبت کا یہ عالم تھا کہ بُھوک سے مر رہے تھے، مگر آستانہء محبوب ﷺ چھوڑنے کے لئے تیار نہیں تھے ۔ اہلِ مدینہ نے اپنی آنکھوں سے یہ عشقُ محبت بھرا منظر دیکھا ۔ پھر دنیا میں یہ بات شُہرت پکڑ گئی تو لوگوں نے حکومت کو تار دیئے اور اِصرار کیا ، تب حکومت نے پھر حسبِ سابق کبوتروں کو دانہ ڈالنا شروع کیا ۔

( انوارِ قُطبِ مدینہ ، صفحہ ٥٤ )


یہ تمنّا ھے تیرے  ﷺ   شہر کے اندر ہوتا

میں تیرے ﷺ گُنبدِ خضریٰ کا کبوتر ہوتا


 عرب خبر رساں ادارےالعربیہ ڈاٹ نیٹ کی حرم پاک کے کبوتروں بارے دلچسپ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ذوالحجہ کے ابتدائی پانچ دنوں میں نیلگوں اور سبز پروں والے ان کبوتروں کے جھنڈ کے جھنڈ مکہ مکرمہ کی جانب آتے ہیں اور پھر حج کے مہینے ذوالحجہ کے وسط میں واپس مدینہ منورہ لوٹ جاتے ہیں۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ احرام یا اس کے بغیر کسی طور پر ان کبوتروں کا شکار جائز نہیں، ان کے شکار یا قتل کی صورت میں فدیہ واجب آ جاتا ہے۔ ان کبوتروں کے متعلق خیال کیا جاتا ہے کہ یہ کبوتر ان کبوتروں کی نسل میں سے ہیں جنہوں نے رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے کفار مکہ سے پناہ کیلئے غارِ ثور میں قیام کے دوران غار کے دھانے پر گھونسلے بنا ڈالے تھے، تاکہ کفار یہ خیال کریں کہ یہاں کوئی نہیں آیا، اگر آیا ہوتا تو غار میں داخل ہوتے وقت ضرور کبوتروں کے یہ انڈے  ٹکرانے سے ٹوٹ جاتے۔


کبوتروں کے حوالے سے ایک اور مشہور روایت یہ بھی بیان کی جاتی ہے کہ طوفان نوح کے وقت جب بارش تھم گئی اور حضرت نوح علیہ السلام نے خشک زمین بارے معلوم کرنا چاہا تو آپ نے ایک کبوتر کو خشکی کا پتہ معلوم کرنے کیلئے استعمال کیا تھا اور حرم پاک کے کبوتر اسی کبوتر کی نسل سے ہیں۔

*نوٹ* اس پیغام کو دوسروں تک پہنچائیے تاکہ اللہ کسی کی زندگی کو آپ کے ذریعے بدل دے 

𓏼𓏼𓏼𓏼𓏼𓏼𓏼𓏼𓏼𓏼𓏼𓏼𓏼𓏼𓏼𓏼𓏼𓏼𓏼𓏼𓏼𓏼𓏼𓏼

  ❤️      ✍🏻ㅤ   📩      📤 

  ˡᶦᵏᵉ   ᶜᵒᵐᵐᵉⁿᵗ   ˢᵃᵛᵉ     ˢʰᵃʳᵉ

👈 *اسلام میں عشقِ مجازی کا تصور __!!*

     👈 *اسلام میں عشقِ مجازی کا تصور __!!*  نبی کریم ﷺ نے پوچھا : ” تم مالدار بھی ہو ؟“ جی الحمدللہ !“ نبی کریم ﷺ نے فرمایا : ”پھر تو تم شی...