Tuesday, 12 December 2023

اپنا محاسبہ ضرور کریں®

 اپنا محاسبہ ضرور کریں!

```الحدیث النبوی:```

قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم :۔۔۔فَیَبْقٰی فِیْہَا عُجَاجَۃٌ لَایَعْرِفُوْنَ مَعْرُوْفًا وَلَا یُنْکِرُوْنَ مُنْکَرًا۔


رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا:

(قیامت کے قریب)صرف ایسے ناکارہ لوگ باقی رہ جائیں گے ،جن کو نہ نیکی کی معرفت (پہنچان)ہو گی اور نہ وہ برائی کو برا سمجھیں گے۔ 


```مسند احمد:12905```

♨️ *گوانتانا موبے کا جہنم* *چوتھی قسط* 4️⃣ ⛓️〰️〰️ 𒆜

 

♨️ *گوانتانا موبے کا جہنم* 𒆜

بدنام زمانہ جیل گوانتانا موبے کا جہنم، سابق افغان سفیر ملّا عبدالسلام ضعیف کی کہانی۔۔۔


◉=⫸ *چوتھی قسط* 4️⃣ ⛓️〰️〰️


۔✿❀࿐≼ ❍••═┅┄


*فولادی پنجہ:*

دہشت گردی کا لفظ امریکیوں کے لیے ا یک فولادی پنجہ ہے جسے چاہتے ہیں وہ اس سے اس کا سر دے مارتے ہیں اور ان کی گرفتاری اور رہائی عمل میں لاتے اور ان کا یہ مکرہ و فریب دوسرے تمام ملکوں پر آشکار ہو چکا ہے۔ چار پانچ دن تک یومیہ تفتیش دو مرتبہ مکرر ہوتی رہی اور وہی پرانے سوالات پوچھے جاتے رہے لیکن میرے لیے یہاں اچھی بات یہ تھی کہ یہاں کوئی سختی، مار پیٹ اور سزا نہ تھی لیکن طبعی طور پر ایسے تنگ مکان میں زندہ رہنے کے باوجود زندگی بڑی مشکل سے بسر ہوتی ہے۔ ’’باتیں مت کرو اور ہلو مت‘‘


پانچ چھ دن کے بعد صبح ناشتے پر مجھے خاکی رنگ کا یونیفارم دیا گیا اور حکم دیا گیا کہ پرانے یونیفارم کی جگہ اسے پہن لو، یونیفارم تبدیل کرنے کے فوراً بعد منتقلی کا کام شروع ہوگیا۔ تمام قیدیوں کے ہاتھوں کو پلاسٹک کی رسی سے باندھا گیا اور ان کے سروں پر تھیلے چڑھائے گئے۔ تھیلوں کے تسموں کو ان کی گردنوں کے ساتھ باندھا گیا۔ آخری باری میری تھی۔ میرے ہاتھوں کو بھی رسیوں سے باندھا گیا، سر پر تھیلی چڑھائی گئی اور تہہ خانے سے اوپر لا کر ان قیدی بھائیوں کے ساتھ بٹھایا گیا جنہیں مجھ سے پہلے لایا گیا تھا۔ قیدیوں میں پانچ افغان تھے جن کے نام میں نے پہلے ذکر کر دیئے۔دو عرب، اور ایک امریکی مسلمان تھا اور نواں میں تھا۔


یاد رہے کہ میرے اور ان کے یونیفارم میں فرق تھا۔ میرا یونیفارم خاکی اور ان کا آسمانی کلر کا تھا۔ کافی دیر تک ہمیں وہاں اس بند حالت میں بٹھایا گیا ۔سخت رسی سے باندھنے اور دم گھنٹے کی شکایت کی وجہ سے ساتھیوں کی مسلسل چیخیں نکل رہی تھیں۔ کوئی قیدی پانی مانگ رہا تھا تو کوئی ہاتھوں کے درد کی شکایت کر رہا تھا۔ کوئی چیختا تھا کہ میرا دم گھٹ رہا ہے لیکن انسانیت نام کی کوئی چیز نہ تھی جو ہماری آوازوں کو سنتے اور ہمیں درد و قید سے چھڑا کر پانی پلاتے اور سروں سے تھیلے ہٹا کر ہمیں سانس لینے دیا جاتا۔ خالی فوجیوں کی آوازیں اور نعرے تھے جو ہمیں انگریزی زبان میں لتاڑتے تھے اور کہتے تھے (Shut up and Stop Movement) (باتیں مت کرو اور ہلو مت)یہاں مسلسل ہیلی کاپٹروں کی آوازیں گونج رہی تھیں۔ دو تین گھنٹے ہمیں یہاں رکھا گیا اور پھر ہیلی کاپٹروں کے اندر ڈال کر باندھا گیا۔ تقریبا 25منٹ سفر کے بعد ہمیں ایک اور جگہ منتقل کیا گیا ہمیں ہیلی کاپٹر سے نیچے زمین پر گرایا گیا اور وہاں موجود فوجیوں نے ہمارے جسموں کے ساتھ فٹ بال کھیلنا شروع کر دیا۔


*لاتیں اور گھونسے:*

مختلف فوجی آتے رہے اور ہمیں لاتوں اور گھونسوں سے سخت مارتے رہے ۔یہاں تک کہ فوجی اپنے بوٹوں سے ہماری انگلیاں زمین کے ساتھ روندتے رہے اور ہماری چیخیں بلند ہوتی رہیں ۔اسی اثناء میں ایک فوجی مجھے تلاش کرنے کے سلسلے میں میرے پاس آیا، میرے سر سے تھیلا اٹھایا اور پھر دوبارہ پہنا کر شناخت کے بعد چپ چاپ چلا گیا ۔میں نے اس وقت اپنے دوسرے قیدی بھائیوں کو دیکھا کہ وہ سخت تکلیف میں تھے۔امریکی فوجی ان کے جسموں سے لاتوں اور گھونسوں کے ساتھ کھیل رہے تھے اور ان کی چیخیں بلند ہو رہی تھیں۔ یہاں ہم اتنے سخت عذاب میں تھے کہ وضو اور نماز نہیں پڑھ سکتے تھے اور نہ ہی اشارے سے نماز پڑھ سکتے تھے۔ اس لیے کہ ہماری تھوڑی سی حرکت پر وہ ہم پر لاتوں کی بارش کرتے۔ ایک لمحہ لیے ہمیں چھوٹے پیشاب کے لیے اٹھایا گیا جس سے ہماری طبیعت قدرے سنبھل گئی۔کئی بار ہیلی کاپٹر لینڈنگ کرتے رہے اور بار بار پرواز کرتے رہے بالآخر رات کے شروع ہوتے ہی ایک ہیلی کاپٹر ہمارے بہت قریب آیا اور ہمیں اس کے اندر ڈال دیا گیا۔پل صراط اور حالت نزع: ہیلی کاپٹر کی منتقلی پل صراط کا پل اور حالت نزع کے برابر ہوتا تھا ۔اتنا سخت عذاب تھا کہ جسے میں آج بھی تصور نہیں کر سکتا۔ گوانتاناموبے میں ہمیں ہمیشہ اپنی منتقلی کی فکر ہوتی تھی کہ وہ خدانخواستہ دوسری جگہ منتقل کس طرح ہوگی۔ہمیں ہیلی کاپٹر کے اندر ہاتھ پاؤں سے مضبوط باندھا گیا ۔اس طرح کے ڈبل پٹے ہمارے سینے اور رانوں کے اوپر لپیٹ کر جہاز کے دوسرے حصوں سے مضبوط باندھ دیا گیا۔ ایسے میں نیم لیٹے اور نیم بیٹھے ہوتے تھے نہ صحیح طرح لیٹ سکتے تھے اور نہ ہی صحیح طرح بیٹھ سکتے تھے۔


*بگرام ائیرپورٹ:*

ریڑھ کی ہڈی میں شدید تکلیف ہو رہی تھی اور سانس گھٹ رہا تھا لیکن صبر کے سوا کوئی راستہ نہ تھا ۔ہم ایک دوسرے کے ساتھ سہارا لینے لگ جاتے تو فوجی وحشی بوٹ سے سخت مارتے، ساتھیوں کو پیشاب اور پیاس کے تقاضے کے باوجود اجازت نہیں ملتی تھی اور ترجمان بھی نہ تھا یا پھر وہ بھی فوجیوں کے ساتھ ملا ہوتا تھا۔ راستے میں دو جگہ ہیلی کاپٹر اترا اور پھر اڑان بھری کافی دیر بعد ہیلی کاپٹر ایک جگہ اترا اور یہ بگرام ائیرپورٹ تھا۔ ’’امریکا عدل و انصاف کا گھر ہے‘‘


مجھے فوجیوں نے بڑی بے دردی کے ساتھ نیچے پکی زمین پر پھینکا۔ چند فوجی یہ نعرے لگا رہے تھے (This is the big one) یہ ان کا بڑا ہے۔ پھر انہوں نے مجھ پر لاتوں اور گھونسوں کی بارش شروع کر دی دی۔ میں نے تو کلاشنکوف کے بٹ بھی محسوس کئے میرے جسم سے کپڑے الگ ہوگئے خالی سر پر تھیلا اور ہاتھ پاؤں میں بیڑی لگی ہوئی تھی۔ تازہ تازہ برف باری ہو چکی تھی چند گھنٹوں کی مار پیٹ کے بعد انہوں نے مجھے ننگا برف پر پھینک دیا۔ فوجیوں کی موجودگی میں ایک خاتون مسلسل غزل پڑھ رہی تھی اور فوجی لوگ میرے جسم کے ساتھ کھیل رہے تھے۔ غزلوں کا ایک ٹکڑا ابھی تک مجھے یاد ہے وہ گا رہی تھی: ’’امریکا عدل و انصاف کا گھر ہے اور عدل و انصاف کا خواہاں ہے ، ہر آدمی کے لیے انصاف چاہتا ہے۔‘‘(بشرطیکہ مسلمان نہ ہو کیونکہ مسلمان ان کے نزدیک انصاف کا کوئی استحقاق ہی نہیں رکھتا) اس وجہ سے وہ مسلمانوں کے ساتھ ایسا وحشی طریقہ روا رکھتے ہیں اور اس طرح کی غزل گاتے رہتے ہیں۔ ایسا وحشی طریقہ کہ جس کا نہ تو عدل و انصاف سے کوئی واسطہ ہے اور نہ ہی کوئی دوسرا اسے عدل و انصاف کہہ سکتا ہے۔


برف پر شدید سردی تھی جسم بالکل شل ہو کر کانپتا تھا اور فوجی مسلسل چیختے تھے Stop Movement(حرکت مت کرو، مت ہلو) لیکن شدید سردی کی وجہ سے جسم کی لرزش اور کپکپاہٹ روکنا میرے بس میں نہ تھا آخر کار تین چار گھنٹے بعد شدید سردی کی وجہ سے میں بے ہوش ہوگیا اور پھر مجھے اپنا پتہ نہ چل سکا۔ جب مجھے ہوش آیا تو میں ایک ایسے بڑے کمرے میں پڑا ہوا تھا جس میں دھوپ پڑتی تھی۔ تقریبا یہ دن کے نو دس بجے کا وقت تھا میرے جسم میں شدید درد تھا جو میرے لیے بالکل ناقابل برداشت تھا۔


♾🍃🌸 🌸🍃♾

 *جاری ہے*۔۔۔۔۔۔

🔹التحیات میں انگلی ہلانا کیسا ہے ؟

 🔹التحیات میں انگلی ہلانا؟


🔘سوال : فرقہ غیر مقلدین نسائی شریف کی ایک حدیث سے، التحیات میں انگلی کے ہلانے کی دلیل دیتے ہیں، تو کیا انکی دلیل صحیح ہے؟ 


🔘جواب : نہیں ! نسائی شریف، 141/42 میں وائل بن حجررضی الله تعالى عنہ کی حدیث کا ایک ٹکڑا جو فرقہ غیر مقلدین کے مطلب کا ہے وہ صرف اس کو پیش کرتے ہیں، پوری حدیث پیش نہیں کرتے، حالانکہ کہ اسی حدیث کے شروع میں نیت باندهتے وقت ، ہاتهوں کو کانوں تک اٹهانے کا ذکر ہے، جب کہ غیر مقلدین صرف کندهے تک ہی ہاتھ اٹھا تے ہیں..


🔘اسی طرح کرکٹ میچ کے کھلاڑیوں کی طرح ہتهیلیوں کو کہنیوں تک لے جا کر سینے پر ہاتھ باندھ تے ہیں. ..حالانکہ ہاتھ باندھ نے کہ سلسلے میں ہتهیلیوں کو کہنیوں تک پہونچانے کا ذکر کسی بهی حدیث میں نہیں ہے.خاص طور پر اس حدیث میں تو ہاتھ کو گٹے اور کلائی پر رکهنے کا ذکر ہے ...


🔴تو معلوم ہوا کہ غیر مقلدین حدیث نہیں بلکہ انگریزوں کے    اس فارمولے ( do the new ) .کچھ نیا کرو .تاکہ لوگ تمہاری طرف متوجہ ہوں، پر عمل کر تے ہو ئے آدهی حدیث پر عمل کرتے ہیں اور آدهی حدیث سے اپنا پلو جهاڑ لیتے ہیں.

🔹حدیث کا و جز جس سے انگلی کا ہلانا معلم ہو تاہے.?

(ثم رفع اصبعہ فرایتہ یحرکها یدعوبها)

ترجمہ: پهر اپنی انگلی کو اوپر اٹها یا تو میں نے دیهکا کہ اس کوحرکت دیتے ہوئے شہادت کی دعا پڑهرہے تهے.. 


🔵اس حدیث میں حرکت کیسے دے رہے تھے ؟ دائیں بائیں ، یا پہر اوپر نیچے کررہے تهے ، اس کی تفصیل نہیں ملتی نہ کسی دوسری حدیث میں حرکت کا ذکر ہے ، نہ ہی کسی صحابی کا اس پر عمل ہے ، اس لئے کہ حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے کثرت سے صرف انگلی سے اشارہ ثابت ہے ، حرکت دینا ثابت نہیں ہے . حضرات صحابہ کرام کا معمول اس امت کے لئے معیار عمل ہے ، ان سے زیادہ سنت پر عمل کرنے والا کوئی نہیں ہو سکتا، حضرت وائل بن حجررضی الله تعالى عنہ جو اس حدیث کے راوی ہیں خود انکا اس پر عمل کہیں منقول نہیں یے..


وہ حدیثیں جن سے التحیات میں  انگلی سے صرف اشارہ ثابت ہے حرکت نہیں.


1⃣راوی :وائل بن حجر، نسائی، 130 (ونصب اصبعہ للدعا)

ترجمہ:اور اپنی انگلی کو تشهد کی دعا پڑهنے کے لئے کهڑا کیا.


2⃣راوی:عبداللہ بن زبیر، نسائی 142 (کان یشیر باصبعہ اذا دعا ولا یحرکها)

ترجمہ:نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم جب دعا کرتے تو انگلی سے اشارہ کرتے ، حرکت نہیں دیتے تهے.

اس حدیث میں حرکت نہ دینے کی صراحت ہے


3⃣راوی:عبداللہ بن عمر، نسائی ، ا142.(ورفع  اصبعہ التی تلی الابهام فدعا)

ترجمہ: اورآپ انگوٹھے کی قریب انگلی سے کو بلند فرمایا.)


4⃣راوی:عبداللہ بن زبیر، ابوداود ، 142 (ان النبی صلى الله عليه وسلم کان یشیر باصبعہ اذا دعا ، ولا یحرکها)

ترجمہ: جب (نماز میں تشهدکی)کی دعا پڑهتے تو انگلی سے اشارہ کرتے، حرکت نہیں دیتے.

اس حدیث میں بهی حرکت نہ دینے کی صراحت ہے.


5⃣راوی:عبداللہ بن زبیر، نسائی، 130، (ثم اشار باصبعہ)

تر جمہ: پهرانگلی سے اشارہ کرتے. 


🔵ان کے علاوہ ، مسلم ، ابوداود ، نسائی، ابن ماجہ، کی روایتوں کو ملا کر مکمل پندرہ روایتیں ایسی ہیں جن سے التحیات میں صرف انگلی سے اشارہ کا ثبوت ملتا ہے ، اور یہی سنت طریقہ ہے ،

🔵امام ابو حنیفہ، امام مالک، امام شافعی، امام احمد بن حنبل رحمهم الله، جن کو لا کهوں حدیثیں یاد تهیں، اسی سنت کے مطابق ان چاروں ائمہ مجتہدین نے بهی انگلی سے صرف اشارہ کرنے کا حکم نقل کیا ہے .


🔴اس کے باوجود غیر مقلدین کا انگلی ہلانے پر اصرار کرنا، انکی ہٹ دھرمی ہے اور اپنے علماء کی جامد تقلید ہے، جو انکے نزدیک شرک ہے.  ان پندرہ سے زائد احادیث کو چهوڑ کر ، ایک غریب حدیث کے آدهے حصہ پر عمل کرنا اور آدهے کو چھوڑ دینا اس بات کی دلیل ہے کہ یہ غیر مقلد فرقہ ایک فتنہ ہے جو امت میں انتشار پھیلانا چاہتا ہے، 


اللہ اس فتنہ سے پوری امت کی حفاظت فرمائے. آمین.

Wednesday, 6 December 2023

💕💕 ﺧﺎﻭﻧﺪ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﺑﯿﻮﯼ ﮐﻮ ﭘﮩﻠﯽ ﻣﻼﻗﺎﺕ ﻣﯿﮟ ﯾﮧ ﻧﺼﯿﺤﺖ ﮐﯽ,,💕💕

 *ﺍﯾﮏ ﺧﺎﻭﻧﺪ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﺑﯿﻮﯼ ﮐﻮ ﭘﮩﻠﯽ ﻣﻼﻗﺎﺕ ﻣﯿﮟ ﯾﮧ ﻧﺼﯿﺤﺖ ﮐﯽ۔*


ﮐﮧ ﭼﺎﺭ ﺑﺎﺗﻮﮞ ﮐﺎ ﺧﯿﺎﻝ ﺭﮐﮭﻨﺎ :

ﭘﮩﻠﯽ ﺑﺎﺕ ﯾﮧ ﮐﮧ ﻣﺠﮭﮯ ﺁﭖ ﺳﮯ ﺑﮩﺖ ﻣﺤﺒﺖ ﮨﮯ۔ ﺍﺱ ﻟﺌﮯ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ

ﺁﭖ ﮐﻮ ﺑﯿﻮﯼ ﮐﮯ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﭘﺴﻨﺪ ﮐﯿﺎ۔ ﺍﮔﺮ ﺁﭖ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﭼﮭﯽ ﻧﮧ ﻟﮕﺘﯿﮟ

ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﻧﮑﺎﺡ ﮐﮯ ﺫﺭﯾﻌﮯ ﺁﭖ ﮐﻮ ﮔﮭﺮ ﮨﯽ ﻧﮧ ﻻﺗﺎ۔ ﺁﭖ ﮐﻮ ﺑﯿﻮﯼ ﺑﻨﺎ ﮐﺮ

ﮔﮭﺮ ﻻﻧﺎ ﺍﺱ ﺑﺎﺕ ﮐﺎ ﺛﺒﻮﺕ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻣﺠﮭﮯ ﺁﭖ ﺳﮯ ﻣﺤﺒﺖ ﮨﮯ ﺗﺎ ﮨﻢ

ﻣﯿﮟ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮨﻮﮞ ﻓﺮﺷﺘﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﮞ ﺍﮔﺮ ﮐﺴﯽ ﻭﻗﺖ ﻣﯿﮟ ﻏﻠﻄﯽ ﮐﺮ

ﺑﯿﭩﮭﻮﮞ ﺗﻮ ﺗﻢ ﺍﺱ ﺳﮯ ﭼﺸﻢ ﭘﻮﺷﯽ ﮐﺮ ﻟﯿﻨﺎ۔ ﭼﮭﻮﭨﯽ ﻣﻮﭨﯽ

ﮐﻮﺗﺎﮨﯿﻮﮞ ﮐﻮ ﻧﻈﺮ ﺍﻧﺪﺍﺯ ﮐﺮ ﺩﯾﻨﺎ۔

ﺍﻭﺭ ﺩﻭﺳﺮﯼ ﺑﺎﺕ ﯾﮧ ﮐﮧ ﻣﺠﮭﮯ ﮈﮬﻮﻝ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﻧﮧ ﺑﺠﺎﻧﺎ۔ ﺑﯿﻮﯼ ﻧﮯ

ﮐﮩﺎ، ﮐﯿﺎ ﻣﻄﻠﺐ؟ ﺍﺱ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﺟﺐ ﺑﺎﻟﻔﺮﺽ ﺍﮔﺮ ﻣﯿﮟ ﻏﺼﮯ ﻣﯿﮟ ﮨﻮﮞ

ﺗﻮ ﻣﯿﺮﮮ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﺟﻮﺍﺏ ﻧﮧ ﺩﯾﻨﺎ۔ ﻣﺮﺩ ﻏﺼﮯ ﻣﯿﮟ ﺟﺐ

ﮐﭽﮫ ﮐﮩﮧ ﺭﮨﺎ ﮨﻮ ﺍﻭﺭ ﺁﮔﮯ ﺳﮯ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﯽ ﺑﮭﯽ ﺯﺑﺎﻥ ﭼﻞ ﺭﮨﯽ ﮨﻮ ﺗﻮ

ﯾﮧ ﭼﯿﺰ ﺑﮩﺖ ﺧﻄﺮﻧﺎﮎ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ۔ ﺍﮔﺮ ﻣﺮﺩ ﻏﺼﮯ ﻣﯿﮟ ﮨﮯ۔ ﺗﻮ ﻋﻮﺭﺕ

ﺍﻭﺍﺋﮉ ﮐﺮ ﺟﺎﺋﮯ ﺍﻭﺭ ﺑﻠﻔﺮﺽ ﻋﻮﺭﺕ ﻏﺼﮯ ﻣﯿﮟ ﮨﮯ ﺗﻮ ﻣﺮﺩ ﺍﻭﺍﺋﮉ ﮐﺮ

ﺟﺎﺋﮯ۔ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﻃﺮﻑ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﻭﻗﺖ ﻣﯿﮟ ﻏﺼﮧ ﺁ ﺟﺎﻧﺎ ﯾﻮﮞ ﮨﮯ ﮐﮧ

ﺭﺳﯽ ﮐﻮ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﻃﺮﻑ ﺳﮯ ﮐﮭﯿﻨﭽﻨﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﺑﺎﺕ ﮨﮯ۔ ﺍﯾﮏ ﻃﺮﻑ ﺳﮯ

ﺭﺳﯽ ﮐﻮ ﮐﮭﯿﻨﭽﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺩﻭﺳﺮﯼ ﻃﺮﻑ ﺳﮯ ﮈﮬﯿﻼ ﭼﮭﻮﮌ ﺩﯾﮟ ﺗﻮ ﻭﮦ

ﻧﮩﯿﮟ ﭨﻮﭨﺘﯽ ﺍﮔﺮ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﻃﺮﻑ ﺳﮯ ﮐﮭﯿﻨﭽﯿﮟ ﺗﻮ ﭘﮭﺮ ﮐﮭﭻ ﭘﮍﻧﮯ ﺳﮯ

ﻭﮦ ﺭﺳﯽ ﭨﻮﭦ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ۔

ﺗﯿﺴﺮﯼ ﻧﺼﯿﺤﺖ ﯾﮧ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺩﯾﮑﮭﻨﺎ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﺭﺍﺯ ﻭ ﻧﯿﺎﺯ ﮐﯽ ﮨﺮ ﺑﺎﺕ

ﮐﺮﻧﺎ ﻣﮕﺮ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﮯ ﺷﮑﻮﮮ ﺍﻭﺭ ﺷﮑﺎﺋﯿﺘﯿﮟ ﻧﮧ ﮐﺮﻧﺎ۔ ﭼﻮﻧﮑﮧ ﺍﮐﺜﺮ

ﺍﻭﻗﺎﺕ ﻣﯿﺎﮞ ﺑﯿﻮﯼ ﺁﭘﺲ ﻣﯿﮟ ﺗﻮ ﺑﮩﺖ ﺍﭼﮭﺎ ﻭﻗﺖ ﮔﺰﺍﺭ ﻟﯿﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔

ﻣﮕﺮ ﻧﻨﺪ ﮐﯽ ﺑﺎﺗﯿﮟ ﺳﺎﺱ ﮐﯽ ﺑﺎﺗﯿﮟ ﻓﻼﮞ ﮐﯽ ﺑﺎﺗﯿﮟ، ﯾﮧ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﮯ

ﺍﻧﺪﺭ ﺯﮨﺮ ﮔﮭﻮﻝ ﺩﯾﺘﯽ ﮨﯿﮟ۔ ﺍﺱ ﻟﺌﮯ ﺷﮑﻮﮮ ﺷﮑﺎﺋﺘﻮﮞ ﺳﮯ ﻣﻤﮑﻨﮧ ﺣﺪ

ﺗﮏ ﮔﺮﯾﺰ ﮐﺮﻧﺎ۔

ﺍﻭﺭ ﭼﻮﺗﮭﯽ ﺑﺎﺕ ﮐﮧ ﺩﯾﮑﮭﻨﺎ ﺩﻝ ﺍﯾﮏ ﮨﮯ ﯾﺎ ﺗﻮ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﻣﺤﺒﺖ ﮨﻮ

ﺳﮑﺘﯽ ﮨﮯ ﯾﺎ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﻧﻔﺮﺕ۔ ﺍﯾﮏ ﻭﻗﺖ ﻣﯿﮟ ﺩﻭ ﭼﯿﺰﯾﮟ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ

ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮦ ﺳﮑﺘﯿﮟ۔ ﺍﮔﺮ ﺧﻼﻑِ ﺍﺻﻮﻝ ﻣﯿﺮﯼ ﮐﻮﺋﯽ ﺑﺎﺕ ﺑﺮﯼ ﻟﮕﮯ ﺗﻮ ﺩﻝ

ﻣﯿﮟ ﻧﮧ ﺭﮐﮭﻨﺎ، ﻣﺠﮭﮯ ﺳﮯ ﺟﺎﺋﺰ ﻃﺮﯾﻖ ﺳﮯ ﺑﺎﺕ ﮐﺮﻧﺎ، ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﺑﺎﺗﯿﮟ

ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﺭﮐﮭﻨﮯ ﺳﮯ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﺷﯿﻄﺎﻥ ﮐﮯ ﻭﺳﻮﺳﻮﮞ ﮐﺎ ﺷﮑﺎﺭ ﮨﻮ ﮐﺮ ﺩﻝ

ﻣﯿﮟ ﻧﻔﺮﺗﯿﮟ ﮔﮭﻮﻟﺘﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺗﻌﻠﻘﺎﺕ ﺧﺮﺍﺏ ﮨﻮ ﮐﺮ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﺎ ﺭﺥ ﺑﺪﻝ

ﺩﯾﺘﮯ ﮨﯿﮟ🫧

(+ *🔸ضدی خواتین ناکام ہیں ...🔸*,,🥰

(+ *🔸ضدی خواتین ناکام ہیں ...🔸*

ضدی عورتیں اپنی شادیوں میں بلکہ شوہر کے ساتھ اپنے تعلقات میں بھی ناکام ہوجاتی ہیں۔

ایسی خواتین جو شوہر کے جذبات کا خیال نہیں رکھتیں، اور معاملات میں لچک نہیں رکھتیں ، ان کی شادیاں مکمل ناکام ہوجا تی ہیں ۔ بلکہ 
ان کی زندگیاں بھی ناکام ہو جاتی ہیں ۔ کیوں؟

*(1) ...* وہ اپنے شوہر کے ساتھ اپنی انا کی جنگ لڑتی رہتیں ہیں ، شوہر پر قابو پانے کی کوشش میں لگی رہتی ہیں۔ اس جنگ میں ہمیشہ وہ ہار جاتی ہیں،وہ کبھی یہ جنگ نہیں جیت سکتیں ۔ کیونکہ مرد ضد کرنے والی بیوی کے سامنے اور زیادہ ضدی ہوجاتے ہیں ، اور وہ ایک نرم اور فرمانبردار عورت کے سامنے بہت زیادہ نرم ہو جاتے ہیں۔

*(2) ...* ایک ضدی عورت سوچتی ہے کہ وہ اپنی رائے پر اصرار کر کے جیت جائیگی ، اور وہ کسی بھی مخالفت کا سامنا کرلیگی ۔ جبکہ وہ یہ بھول جاتی ہے کہ یہ جنگ وہ اپنی ضد اور زبان سے جیت بھی جائے تو وہ اس دل سے محروم ہوجائیگی جو اسے پیار کرتا تھا اور اس کی فکر میں لگا رہتا تھا۔

*(3) ...* تمام ثقافتوں اور حکمتوں میں ایک آسان ، نرم ، ہمدرد ، صابرہ اور در گذر کرنے والی عورت کی تعریف کی گئی ہے ۔ یہاں تک کہ بڑے بزرگوں نے ایسی عورت کی تعریف کی ہے جو اپنے شوہر کا احترام کرتی ہے اور نرمی اور حکمت کے ساتھ بولتی ہے ، اور اس کے نتیجے میں وہ اس سے ہمیشہ محبت کرے گا اور اسے کبھی دور نہیں جائیگا۔

*(4) ...* وہ عورت جو اپنے شوہر کی بات مان لیتی ہے اور طوفان کے گذرنے تک صبر کرلیتی ہے وہ عقلمند عورت ہے ، اپنے کنبہ کو بکھرنے سے بچا لیتی ہے  اور وہ عورت جو خشک چھڑی کی طرح بے لچک کھڑی ہوتی ہے وہ ٹوٹ جاتی ہے ، جسکا دوبارہ جڑنا ممکن نہیں ۔

*(5) ...* سمجھوتہ نہ کرنے والی عورت اپنی رائے سے چمٹی رہتی ہے وہ مسلسل اپنی فتح کا وہم برقرار رکھنے کی کوشش کرتی ہے: اس زعم میں رہتی ہے کہ میں جیت گئی اور آپ ہار گئے ، میں ٹھیک ہوں اور آپ غلط ہیں ایسی عورت دوسروں کو تباہ کرنے سے پہلے خود کو تباہ کر دیتی ہے اور وہ دنیا اور آخرت میں غمزدہ اور مایوسی کی زندگی بسر کرتی ہے چونکہ اسے پیار اور محبت چاہئے جو ہارا ہوا مرد نہیں دے سکتا اسکی زبانی جیت حقیقت میں اسکی زندگی کی ہار تھی- 

ازدواجی مشاورت کے لمبے تجربات
 میں نے دیکھا کہ ضدی خواتین کی زندگی ہمیشہ مشکلات سے دو چار ہوتی ہے اور ان کی خاندانی اور معاشرتی زندگی ہمیشہ تلخیوں سے بھری رہتی ہے ۔

Tuesday, 5 December 2023

*خود اعتمادی کو بڑھانے کے طریقے*

 ● آپ اپنے ذہن اور خیالات کے آئینے میں اپنے آپ کو ہمیشہ ایک کامیاب شخص کی حیثیت سے دیکھیں اس تصویر کو کبھی اوجھل نہ ہونے دیں کبھی اپنی ناکامی کے بارے میں کوئی خیال اپنے ذہن میں نہ لائیں اپنی ذاتی تصویر کی حقیقت پر کبھی شبہ نہ کریں ورنہ یہ چیز آپ کیلئے بڑی خطرناک ثابت ہو گی لہٰذا آپ ہمیشہ خود کو ایک کامیاب شخص کی حیثیت سے دیکھیں خواہ حالات کتنے ہی غیر موافق کیوں نہ ہوں

● جب کبھی آپ کی صلاحیتوں سے متعلق کوئی تخریبی خیال آپ کے دماغ میں آئے تو فوراً اس کی مقابلے میں ایک تعمیری خیال لا کر اسے ذہن سے ختم کر دیں

● خیالوں ہی خیالوں میں مت سوچیں کہ فلاں کام کرنے کے راستے میں یہ دشواریاں ہوں گی ان خیالی دشواریوں سے بچیں اصلی دشواریوں کا بغور مطالعہ کریں اور ان پر قابو پانے کی کوشش کریں

● دوسرے لوگوں کے غم سے زیادہ متاثر نہ ہوں اور ان کے نقش قدم پر چلنے کی کوشش مت کریں یاد رکھیں کہ بعض لوگ بظاہر تو خود کو پُر اعتماد ظاہر کرتے ہیں مگر اندر سے ان کی وہی حالت ہوتی ہے جو آپ کی ہے

● دن میں دس مرتبہ یہ ہمہ گیر الفاظ ضرور دہرائیں کہ اگر رب کریم ہمارے ساتھ ہے تو پھر کون ہمارے خلاف ہو سکتا ہے

● اپنے اندر احساس کمتری اور خود اعتمادی کے فقدان کو سمجھنے کی کوشش کریں یہ چیزیں اکثر اوقات بچپن میں انسان کے ذہن پر سوار ہو جاتی ہیں اپنے آپ کو پہچاننے سے بہت سی تکالیف کا علاج خود بخود ہو جاتا ہے

● اگر ہو سکے تو اونچی آواز میں ان الفاظ کو ہر روز دن میں دس بار دہرائیں کہ میں اللہ کی مدد سے ہر کام کر سکتا ہوں

● اپنی صلاحیتوں کا صحیح اندازہ لگانے کی کوشش کریں پھر انہیں دس فیصد بڑھا دیں خود پسند بننے کی کوشش مت کریں بلکہ اپنی عزت کرنا سیکھیں

● خود کو اللہ کی رضا پر چھوڑ دیں پھر یقین کر لیں کہ اب وہ آپ کے اندر کی تعمیری قوتوں کا محرک بن رہا ہے

● اپنے آپ کو ہر وقت یہ یاد دلاتے رہیں کہ اللہ کی ذات آپ کے ساتھ ہے لہٰذا دنیا کی کوئی طاقت آپ کو شکست نہیں دے سکتی جائیے اب خود اعتمادی کا ہتھیار آپ کے ساتھ ہے آپ زندگی کے کسی میدان میں کبھی ناکا م نہیں رہیں گے خود اعتماد ی ہی وہ خوبی ہے جو آپ کو پُر وقار بنائے گی۔

🌹🌴جنتوں میں لے جائے گا۔

 🌹🌴جنتوں میں لے جائے گا۔


*🪷🌷ایمان اور نیک اعمال والوں کو اللہ تعالٰی لہریں لیتی ہوئی نہروں والی جنتوں میں لے جائے گا ۔ اللہ جو ارادہ کرے اسے کرکے رہتا ہے۔*


📘سورہ الحج آیت نمبر 14

👈 *اسلام میں عشقِ مجازی کا تصور __!!*

     👈 *اسلام میں عشقِ مجازی کا تصور __!!*  نبی کریم ﷺ نے پوچھا : ” تم مالدار بھی ہو ؟“ جی الحمدللہ !“ نبی کریم ﷺ نے فرمایا : ”پھر تو تم شی...