Thursday, 18 January 2024

*بد نظری کا علاج*🤔

 *بد نظری کا علاج* 


اس روحانی بيمارى كا علاج كئى ايك طريقوں سے ہو سكتا ہے:

پہلا طريقہ تو شادى ہے اسے شادى كر لينى چاہيے،

 كيونكہ نبى كريم صلى اللہ عليہ كا فرمان ہے:

" جب تم ميں سے كوئى شخص كسى عورت كے محاسن كو ديكھے تو وہ اپنى بيوى كے پاس آئے كيونكہ اس كى بيوى كے ساتھ بھى وہى كچھ ہے جو اس عورت كے ساتھ تھا "

اس سے شہوت ٹوٹ جاتی ہے.




دوم:

اسے نماز پنجگانہ كى پابندى كرنى چاہيے، اور تہجد كے وقت اللہ سے عاجز و انكسارى كے ساتھ دعا كرے، اور نماز پورے خشوع و خضوع اور دل كے ساتھ ادا كرنى چاہيے، اور درج ذيل دعا كثرت سے كيا كرے:

" يا مقلب القلوب ، ثبت قلبي على دينك "

اے دلوں كو الٹنے والے، ميرے دل كو اپنے دين پر ثابت ركھ "

" يا مصرف القلوب صرف قلبي إلى طاعتك "

اے دلوں كو پھيرنے والے، ميرے دل كو اپنى اطاعت کی طرف پھیر دے 

كيونكہ جب بھى وہ مستقل طور پر ہميشہ عاجزى و انكسارى سے يہ دعا كريگا تو اللہ سبحانہ و تعالى اس كے دل كو اس بيمارى سے پھير دے گا

سوم:

وہ اپنے آپ كو بے بردہ عورتوں والى جگہوں سے دور ركھے، اور اسى طرح فحاشى كے ٹى وي چينلوں سے بھى دور رہے جو گندى فلميں اور تصاوير پيش كرتے رہتے ہيں جو دل ميں اثر كر كے اسے كمزور كر ديتى ہيں.

چہارم

پھر بھی اگر کوئی غلطی ھو جائے تو کثرت سے توبہ استغفار کرے ھر گز مایوس نہ ھو اور اپنے نفس کے اوپر کچھ جرمانہ کرے مثلاً بیس نفلیں پڑھے یا پانچ سو روپے صدقہ کرے





دکان کا نام مقدس کلمات کے ساتھ رکھنا*

 *دکان کا نام مقدس کلمات کے ساتھ رکھنا* 

سوال:

بہت سارے لوگ اپنی دکانوں کا نام الرحمن کمپیوٹرس، الحمد بیکری یا الرازق الیکٹرک وغیرہ رکھتے ہیں۔ مجھے بتائیں کہ کیا اس طرح کے نام درست ہیں؟

جواب نمبر: 11865

بسم الله الرحمن الرحيم

فتوی: 640=536/د

 پہلا اور تیسرا نام جائز نہیں ہے، اسمائے باری تعالیٰ کی سخت بے ادبی ہے، دوسرا نام بھی خلاف ادب ہے، لہٰذا تینوں ہی قسم کے ناموں سے احتراز کرنا ضروری ہے۔

واللہ تعالیٰ اعلم

دارالافتاء،

دارالعلوم دیوبند

💦 *اذان اور نماز کی فضیلت !*

 💦 *اذان اور نماز کی فضیلت !*

🔹 *نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ*

*اگر لوگوں کو معلوم ہوتا کہ اذان کہنے اور نماز پہلی صف میں پڑھنے سے کتنا ثواب ملتا ہے۔*

*پھر ان کے لیے قرعہ ڈالنے کے سوائے اور کوئی چارہ نہ باقی رہتا،*

 *تو البتہ اس پر قرعہ اندازی ہی کرتے*

*اور اگر لوگوں کو معلوم ہو جاتا کہ نماز کے لیے جلدی آنے میں کتنا ثواب ملتا ہے*

*تو اس کے لیے دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرتے۔*

*اور اگر لوگوں کو معلوم ہو جاتا کہ عشاء اور صبح کی نماز کا ثواب کتنا ملتا ہے،*

*تو ضرور کولہوں کے بل گھسیٹتے ہوئے ان کے لیے آتے.*🔹

*📗«صحیح بخاری-61

*📚 مسـنون وضـــو کی مکمل تــرتیب:*

 *📚 مسـنون وضـــو کی مکمل تــرتیب:*

*💗 ۱۔ وضو کرنے سے پہلے دل میں وضو کرنے کی نیت کریں۔*

✨ ۲۔ وضو کے شروع میں ’’بسم ﷲ‘‘ ضرور پڑھنی چاہیے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے فرمایا:

*🌷 ’’بسم ﷲ‘‘ کہہ کر وضو کرو۔‘‘*

📑 نسائی، الطھارۃ، باب التسمیۃ عند الوضوء، ۸۷۔ ابن خزیمۃ: ۴۴۱ امام نووی نے اس کی سند کو جید کہا ہے۔

*📛 واضح رہے کہ وضو کی ابتدا کے وقت صرف ’’بسم ﷲ‘‘ کہنا چاہیے۔ ’’الرحمن الرحیم‘‘ کے الفاظ کا اضافہ سنت سے ثابت نہیں۔*

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

*📍’’جو شخص وضو کے شروع میں بسم اللّہ نہیں کہتا اس کا وضو نہیں۔‘‘*

📃 ابود اؤد، الطھارۃ باب التسمیۃ علی الوضوء: ۱۰۱، حافظ منذری وغیرہ نے شواہد کی بنا پر حسن کہا۔

*🌸 اگر بسم ﷲ بھول گئی اور وضو کے دوران یاد آئی تو فوراً پڑھ لے وضو دوبارہ کرنے کی ضرورت نہیں کیونکہ بھول معاف ہے۔* 

🧼 ۳۔ سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ

*🚿 ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زینب رضی اللہ عنہا کو غسل دینے والیوں سے کہا داہنی طرف سے اور وضو کے مقاموں سے ان کا غسل شروع کرو۔‘‘*

📑 بخاری: ۷۶۱، مسلم: الجنائز باب فی غسل المیت۲۴۔۹۳۹

*🌷 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جوتی پہننے، کنگھی کرنے، طہارت کرنے اور غرض تمام کاموں میں دائیں طرف سے شروع کرنا پسند فرماتے۔*

📃 بخاری، الوضوء باب التیمن فی الوضوء والغسل، ۸۶۱، مسلم، الطھارۃ باب التیمن فی الطھور وغیرہ، ۸۶۲.

*🚰 ۴۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں ہاتھ تین بار دھوئے۔*

📑 بخاری، الوضوء، باب الوضوء ثلاثا، ثلاثا، ۹۵۱ ومسلم: ۶۲۲.

*🌹 ۵۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وضو مکمل کرو اور ہاتھوں کو دھوتے وقت ہاتھوں کی انگلیوں کے درمیان خلال کرو، اور ناک میں پانی چڑھانے میں مبالغہ کرو سوائے اس کہ تم روزہ دار ہو۔* 

(یعنی روزہ کی حالت میں مبالغہ نہ کرو)

📃 ابو داود، الطھارۃ باب فی الاستنثار، ۲۴۱۔ ترمذی، الطھارۃ، باب فی تخلیل الاصابع، ۸۳۔ اسے ترمذی، حاکم ۱/۷۴۱، ۸۴۱ اور نووی نے صحیح کہا۔

*✨ ۶۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک چلو لے کر آدھے سے کلی کی اور آدھا ناک میں ڈالا اور ناک کو بائیں ہاتھ سے جھاڑا، یہ عمل تین دفعہ کیا۔*

📑 بخاری، الوضوء باب من مضمض واستنشق من غرفۃ واحدۃ، حدیث ۱۹۱ و باب الوضوء من التور، ۹۹۱،۔ مسلم:۵۳۲.

*🚰 ۷۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین بار منہ دھویا۔*

📃 بخاری، الوضوء، باب مسح الراس کلہ ۵۸۱ ومسلم، الطھارۃ باب: فی وضوء النبیV ۵۳۲.

*🌸 ۸۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم داڑھی کا خلال کرتے تھے۔*

📑 ترمذی، الطھارۃ، باب ماجاء فی تخلیل اللحیۃ، ۱۳ ابن حبان اور ابن خزیمہ نے صحیح کہا۔

*📖 سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے*

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب وضو کرتے تو پانی کا ایک چلو بھر کے اپنی ٹھوڑی کے نیچے داخل کرتے اور اس کے ساتھ اپنی داڑھی کا خلال کرتے اور فرماتے کہ

*🌹 ’’میرے رب نے مجھے اس طرح کرنے کا حکم دیا ہے۔‘‘*

📃 ابو داؤد، الطھارۃ تخلیل اللحیۃ،۵۴۱.

*✨ ۹۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دایاں ہاتھ کہنی تک تین بار دھویا پھر بایاں ہاتھ کہنی تک تین بار دھویا۔*

📑 بخاری، الصوم باب سواک الرطب والیابس للصائم، ۴۳۹۱ ومسلم: ۶۲۲.

*🏵 ۱۰۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر کا مسح کیا۔ دونوں ہاتھ سر کے اگلے حصہ سے شروع کرکے گدی تک پیچھے لے گئے۔ پھر پیچھے سے آگے اسی جگہ لے آئے جہاں سے مسح شروع کیا تھا۔*

📃 بخاری: الوضوء، باب: مسح الرأس: ۵۸۱، مسلم: ۵۳۲.

*🌸 آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر کا ایک دفعہ مسح کیا۔*

📑 بخاری: ۶۸۱، مسلم الطھارۃ باب فی وضوء النبی۸۱۲۔( ۵۳۲).

*🌹 عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے وضو میں سر کا مسح تین بار کیا اور فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسا کرتے ہوئے دیکھا۔*

📃 ابو داؤد، الطھارۃ صفۃ وضوء النبی۷۰۱.

یعنی سر کا مسح تین دفعہ کرنا بھی جائز ہے۔

*🌷 ۱۱۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کانوں کا مسح کیا شہادت کی انگلیاں دونوں کانوں کے سوراخوں میں ڈال کر کانوں کی پشت پر انگوٹھوں کے ساتھ مسح کیا۔*

📑 ابن ماجہ، الطھارۃ، باب ماجاء فی مسح الاذنین، ۹۳۴، ترمذی، الطھارۃ، مسح الاذنین ظاھر ھما و باطنھما، حدیث ۶۳ اسے ابن خزیمہ ۱/۷۷ حدیث ۸۴۱ نے صحیح کہا۔

💕 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:💕

 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

انسان کے ہر ایک جوڑ پر صدقہ لازم ہوتا ہے ہر دن جس میں سورج طلوع ہوتا ہے پھر اگر وہ انسانوں کے درمیان انصاف کرے تو یہ بھی ایک صدقہ ہے اور کسی کو سواری کے معاملے میں اگر مدد پہنچائے اس طرح پر کہ اسے اس پر سوار کرائے یا اس کا سامان اٹھا کر رکھ دے تو یہ بھی ایک صدقہ ہے اور اچھی بات منہ سے نکالنا بھی ایک صدقہ ہے اور ہر قدم جو نماز کے لیے اٹھتا ہے وہ بھی صدقہ ہے اور اگر کوئی راستے سے کسی تکلیف دینے والی چیز کو ہٹا دے تو وہ بھی ایک صدقہ ہے۔

(صحيح البخاري: 2989)

😭*موجودہ دور کی سبق آموز تحریر*😭

 *موجودہ دور کی سبق آموز تحریر*

*ہوٹل کے کمرے میں محبت کا حق ادا کرنے کے بعد لڑکا اور لڑکی برہنہ حالت میں لیٹے محبت کی باتیں کررہے تھے.... لڑکا جانوں یہ لمحے بہت قیمتی ہیں چلو ایک وڈیو بناکر ان کو یادگار کے لئے قید کرلیتے ہیں.... لڑکی نہیں جان ایسے مت کرو تم وڈیو لیک کردو گے لڑکا تمہیں مجھ پر شک ہے؟ جان تمہیں میری قسم ایک وڈیو بنانے دو تمہارے سر کی قسم ڈلیٹ کردوں گا...لڑکی جان تم سر کی قسم مت دیا کرو, چلو بنالو.*

*عزت ہوٹل کے کمرے میں نیلام کرکے وہ محبوب کی یادوں میں اُڑتی گھر آکر سوگئی... یادرہے وہ گھر سے سہیلی سے ملنے کا بہانہ لگاکر گئی تھی... صبح جب وہ اُٹھی تو اُسکی وہ برہنہ وڈیو انٹرنیٹ پر وائرل ہوچکی تھی...بھائیوں نے اُسی وقت مارکر دفن کردیا....لوگوں کو بتایا اُسے سر درد ہوا اور وہ مرگئی...ایسی لڑکیوں کو بغیر جنازے کے راتوں رات لاوارثوں کی طرح دفنا دیا جاتا ہے....یہ کوئی کہانی نہیں ہے ایک سچ ہے جو ناجانے کتنی لڑکیوں کے ساتھ ہوچکا ہے.....!!!*

*اے بنتِ حوا گاڑیوں میں گھومنا مہنگے تحفے لینا آئی فون لینا...ہوٹلوں میں محبوب کے ساتھ کھانے کھانا تمہیں یہ دنیا بہت اچھی لگتی ہوگی....پر یاد رہے یہ ایک بھیانک دنیا ہے. اس کا انجام ذلت اس کے بعد قتل اور بغیر جنازے کے تدفین ہے...* 

*بنتِ حوا آپ کے بابا نے زمانے کی خاک چھان کر آپ کو جوان کیا ہے... آپ کو تعلیم دلوائی کسی قابل بنایا اُس باپ کی عزت کا کچرہ محبت کی آڑ میں مت کرو...اس دنیا میں سب مل جاتا ہے پر گئی عزت دوبارہ نہیں ملتی.....*

*سنبھل جاؤ اس سے پہلے کہ لاوارث موت تمہارا مقدر بنے.*

انتہائی ادب سے گزارش ہے 😴🙏

 انتہائی ادب سے گزارش ہے  

 جتنا پردہ عورت پر فرض ہے اتنا پردہ مرد پر  بھی فرض ہے کچھ مرد حضرات جان بوجھ کر  راستوں میں پیشاب کرنا فرض اولین سمجھتے ہیں اس کے بعد ناڑا پکڑ کر ہاتھ اندر ڈال کر راستوں میں اِدھر ُادھر گھومتے پھرتے ہیں  اور یہ گھناؤنا عملِ گناہ کھلے عام شاہراٶں  اور مصروف راستوں پر ہم لوگ بڑے فخر سے کرتے ہیں

 

بغیر کسی عذر کے مجبوری کے  راستوں میں بیٹھ کر پیشاب کرنا اسلام اور انسانیت کی خلاف ہے  


اپنی حاجت پوری کرنے کےلیۓ کسی محفوظ اور پردے والے جگہ بیٹھ کر پیشاب کریں اور وہیں پر ضروری صفائی کریں یہ عمل راہ گزرتی خواتین کے لیۓ انتہائی تکلیف دہ عمل ہے 

  

اللہ تعالٰی نے ہم لوگوں کو اشرف المخلوقات پیدا کیا ہے کام بھی اشرف المخلوقات والے کرنے چاہٸیں

کوئی ناراض نہ ہو پوسٹ کو اصلاحی پوسٹ سمجھ کر پڑھیں ماٸیں بہنیں سب کے گھروں میں ہیں جہالت سے نکلیں

👈 *اسلام میں عشقِ مجازی کا تصور __!!*

     👈 *اسلام میں عشقِ مجازی کا تصور __!!*  نبی کریم ﷺ نے پوچھا : ” تم مالدار بھی ہو ؟“ جی الحمدللہ !“ نبی کریم ﷺ نے فرمایا : ”پھر تو تم شی...